المعرفت منزل
*پچھلی قسط میں ہم نے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے مکہ آنے اور "ننھے حضور" کو اپنے ساتھ دودھ پلانے کی خاطر گاؤں لے جانے کے واقعات بیان کئے.. اب آگے کے حالات کا ذکر کیا جاۓ گا..*
*حلیمہ سعدیہ کے گھر میں کل چھ افراد رہا کرتے تھے.. شوہر حارث , شیر خوار عبداللہ , بیٹیاں انیسہ , حذیفہ اور جدامہ (رضی اللہ عنہا).. ( ان ہی کا لقب شیما تھا) عبداللہ (رضی اللہ عنہ) کی قسمت کہ انہیں آپ ﷺ وسلم کے دودھ شریک بھائی کا شرف حاصل ہوا..*
*جب آپ ﷺ ذرا بڑے ہوئے اور پاؤں پاؤں چلنے لگے تو شیما (رضی اللہ عنہا) ہی زیادہ تر آپ ﷺ کے ساتھ کھیلا کرتیں.اس* *کھیل کےدوران ایک مرتبہ شیما (رضی اللہ عنہا) نے آپﷺ کو بہت تنگ کیا تو غصہ میں آپ ﷺ نے ان کے کندھے پر اس زور سے کاٹا کہ دانتوں کے نشان بیٹھ گئے.. یہ نشان ان کے لئے اُس وقت باعث رحمت بن گئے جب کہ غزوۂ حنین کے بعد شیما مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئیں تو انہوں نے کہا کہ میں تمہارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضاعی بہن ہوں.. جب مسلمانوں نےانہیں* *حضورﷺ کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے بچپن کا واقعہ یاد دلاتے ہوئے اپنے کندھے پر دانتوں کے نشان دکھائے جس پر حضور ﷺ کو سارا واقعہ یاد آگیا اور آپ ﷺ نے انہیں بڑے احترام سے اپنی چادر بچھا کر بٹھایا اور فرمایا کہ اگر میرے پاس رہنا چاہو تو بہن کی طرح رہ سکتی ہو لیکن انہوں نے عرض کیا کہ وہ اپنے وطن لوٹ جانا چاہتی ہیں.. انہوں نے اسلام قبول کرلیا.. حضور ﷺ نے انہیں جو عطایا دئے ان میں تین غلام , باندیاں , کچھ اونٹ اور بکریاں شامل تھیں..*
*ان چاروں میں سے جناب عبداللہ رضی اللہ عنہ اور شیما رضی اللہ عنہا کا اسلام لانا تو ثابت ہے لیکن باقی دو کا حال معلوم نہیں جبکہ جناب حارث رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد مکہ آۓ تو تب اسلام قبول کرلیا تھا..*
*حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جو غیر معمولی واقعات مکہ سے واپسی پر شروع ہوۓ وہ ان کے گھر پہنچنے پر بھی جاری رہے.. مریل اور بوڑھی اونٹنی کے تھنوں میں دودھ بھر آیا.. حالانکہ اس سے قبل بڑی مشکل سے گزارے کے لئے دودھ آتا تھا.. حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺکے سبب خیر و برکت سے ہمارے گھرانے کو نوازتا رہا.. خود حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے دودھ کم اترتا تھا اور خود عبداللہ کے لئے بھی مشکل سے پورا پڑتا تھا لیکن یہ آنحضرت ﷺ کے وجود مبارکہ کی برکتیں ہی تھیں کہ آپ ؤکے آتے ہی حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی چھاتیوں میں اتنا دودھ اتر آیا کہ جس کا انہوں نے اس سے پہلے سوچا بھی نہ تھا لیکن اس زمانے میں بھی "ننھےحضور" ﷺکی منصف مزاجی اور عدل پسندی کا یہ عالم تھا کہ آپ نے کبھی ایسا نہ کیا کہ ایک پستان کا دودھ پی کر دوسرے سے بھی پی لیں بلکہ دوسری پستان کا دودھ اپنے دودھ شریک بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ کے لئے چھوڑ دیتے.. اس کے علاوہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا جب تک آپ کو دودھ پلاتی رہیں ایسا کبھی نہ ہوا کہ ان کا کوئی بستر یا کوئی دوسرا کپڑا آپ کے بول و براز سے خراب ہوا ہو..*
*آپ ﷺکے دم سے ظہور پذیر برکتیں صرف حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا تک محدود نہ تھیں بلکہ اس کا دائرہ ان کے گھر سے وسیع ہو کر اڑوس پڑوس کے گھروں تک بھی پہنچنے لگا.. قحط اور خشک سالی کی بدولت بنو سعد کے گھرانے کی تمام زمینیں بنجر ہو گئی تھیں اور جانوروں کے تھن دودھ سے محروم ہو گئے تھے لیکن اللہ کے ہونے والے نبی ﷺ کے قدم کی برکت سے تمام زمینیں شاداب ہو گئیں اور بکریوں کے تھنوں میں دودھ بھر آیا.. بستی والے چرواہوں سے کہا کرتے کہ تم بھی اپنی بکریاں وہاں لے جاؤ جہاں حلیمہ سعدیہ (رضی اللہ عنہا) کے جانور چرتے ہیں..*
*ایک مرتبہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کو عکاظ کے میلہ میں لے گئیں.. وہاں ایک کاہن کی نظر آپ پر پڑی تو پکار پکار کر کہنے لگا کہ اے عکاظ والو ! اس بچہ کو جان سے مار ڈالو ورنہ یہ بڑا ہو کر تم سب کو مٹا دے گا.. حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا یہ سنتے ہی آپ ﷺ کو لے کر فوراً وہاں سے چلی گئیں..**.
*سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی.*.
▪️ *بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں*▪️
*واٹس ایپ چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کلک کریں* ▪️

