المعرفت منزل
*تذکرۂ خانوادۂ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.. (حصہ اول)*
*نبی کریم ﷺ کا خانوادہ اپنے جد اعلیٰ "ہاشم بن عبد مناف" کی نسبت سے خانوادۂ ہاشمی کے نام سے معروف ہے..*
*مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خانوادۂ نبی کریم ﷺ کے بعض نام ور افراد کے مختصر حالات پیش کر دیئے جائیں..*
*1.. قصی بن کلاب*
*قصی بن کلاب آپ ﷺ سے پانچ پشت پہلے کے بزرگ ہیں.. دراصل یہ ہی قصی بن کلاب ہیں جنہوں نے نہ صرف بنو خزاعہ سے خانہ کعبہ کی تولیت کا حق واپس لیا بلکہ اپنی قوم بنی اسماعیل اور قبیلے بنی قریش کو منظم و متحد کرکے مکہ کو ایک باقائدہ ریاستی شھر کی شکل دی.. خانہ کعبہ کی تولیت ایک ایسا شرف تھا جس کی وجہ سے قصی بن کلاب اور ان کی آل اولاد کو نہ صرف مکہ بلکہ پورے جزیرہ نما عرب میں ایک خصوصی سیادت اور عزت و احترام کا درجہ حاصل ہوگیا اور قصی بن کلاب نے خود کو اس کا اہل ثابت بھی کیا..*
*قصی بن کلاب کو بلامبالغہ مکہ کی شہری ریاست کا مطلق العنان بادشاہ کا درجہ حاصل تھا.انہوں نےنہ صرف خانہ کعبہ گرا کر نئے سرے سے اس کی تعمیر کرائی بلکہ پہلی دفعہ اس پر کجھور کے پتوں سے چھت بھی ڈالی.. اس کے علاوہ خانہ کعبہ کے جملہ انتظام کا جائزہ لے کر اس میں ضروری اصلاحات بھی کیں..*
*دوسری طرف خانہ کعبہ کے پاس ہی ایک عمارت تعمیر کرائی جسے "دارالندوہ"*
*کا نام دیا گیا..*
*یہاں بنو اسماعیل اور مکہ کے دوسرے قبائل کے سرداروں اور عمائدین کے ساتھ ملکر مختلف امور کے متعلق بحث و تمحیث کے بعد فیصلے کیے جاتے.. قریش جب کوئی جلسہ یا جنگ کی تیاری کرتے تو اسی عمارت میں کرتے.. قافلے یہیں سے تیار ہو کر باہر جاتے.. نکاح اور دیگر تقریبات کے مراسم بھی یہیں ادا ہوتے..*
*اس کے علاوہ مختلف ریاستی امور نبٹانے کے لیے چھ مختلف شعبے قائم کئے اور ان کا انتظام اپنے بیٹوں میں تقسیم کردیا جسے ان کی وفات کے بعد ان کے پوتوں نے باھمی افہام و تفہیم سے چھ شعبوں سے بڑھا کر دس شعبوں میں تقسیم کرکے آپس میں بانٹ لیا..*
*2.حضرت ہاشم بن عبدمناف*
*حضرت ہاشم بن عبد مناف قصی بن کلاب کے پوتے تھے..* *جب عبد مناف اور بنو عبد الدار کے درمیان عہدوں کی تقسیم پر مصالحت ہوگئی تو عبدمناف کی اولاد میں حضرت ہاشم ہی کو سِقَایہ اور رِفادہ یعنی حجاج کرام کو پانی پلانے اور ان کی میزبانی کرنے کا منصب حاصل ہوا.. حضرت ہاشم بڑے مالدار اور نہایت ہی جلیل القدر بزرگ تھے.. ان کا اصل نام عمرو تھا.. چونکہ ان کے زمہ حاجیوں کے کھانے پینے کا انتظام بھی تھا تو وہ ان زائرین کی تواضع ایک خاص قسم کے عربی کھانے سے کرتے جسے "ہشم" کہا جاتا تھا.. (عربی زبان میں ہشم شوربہ میں روٹیاں چورا کرنے کو کہتے ہیں..) مکہ میں ایک سال قحط پڑا تو انہوں نے تمام اہل مکہ کے لئے یہی شوربہ تیار کرایا جس پر انہیں "ہاشم" کا لقب ملا اور تاریخ نے پھر انہیں اسی لقب سے یاد رکھا..*
*ان کی اولاد قریش کے معزز ترین قبیلہ بنو ہاشم کے نام سے مشھور ہے.. انہوں نے قریش کے تجارتی قافلے شروع کروائے اور ان کے لئے بازنطینی سلطنت کے ساتھ معاہدے کئے جن کے تحت قریش بازنطینی سلطنت کے تحت آنے والے ممالک میں بغیر محصول ادا کئے تجارت کر سکتے تھے اور تجارتی قافلے لے جا سکتے تھے.. یہی معاہدے وہ حبشہ کے بادشاہ کے ساتھ بھی کرنے میں کامیاب ہوئے جس کا تمام قریش کو بے انتہا فائدہ ہوا اور ان کے قافلے شام , حبشہ , ترکی اور یمن میں جانے لگے..*
*ایک بار تجارت کی غرض سے شام گئے.. دوران سفر یثرب (جس کا نام بعد میں مدینہ یا مدینۃ الرسول ﷺ ہوا..) میں ٹھہرے.. وہاں قبیلہ بنی نجار کی ایک خاتون "سَلْمیٰ بنت عَمْرو" سے شادی کرلی اور کچھ دن وہیں ٹھہرے رہے.. پھر بیوی کو حالتِ حمل میں میکے ہی میں چھوڑ کر ملک شام روانہ ہوگئے.. غالبا" ان کا ارادہ تھا کہ واپسی پر ان کو مدینہ سے مکہ لے جائیں گے مگر شادی سے چند ماہ بعد دوران سفر ہی ان کا انتقال فلسطین کے علاقے غزہ میں ہو گیا..*
*سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..*
▪️ *بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں*▪️
*واٹس چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کلک کریں* ▪️
▪️ *بچوں کی اسلامی تربیت گروپ میں شمولیت کے لئے تربیت لکھ کر وٹس ایپ میسج کیجئے 03089248729* ▪️

