المعرفت منزل
حضرت عبدالمطلب کی وفات کا واقعہ ایک اور لحاظ سے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے.. قصی بن کلاب نے جملہ امور ریاست آنحضرت ﷺ کے جد امجد "عبدمناف" کے حوالے کئے تھے جو کہ بعدازاں ان کے بیٹے اور آپ ﷺکے پردادا حضرت ہاشم کے حصہ میں آۓ.. دوسری طرف حضرت ہاشم کے ہی دور میں خانہ کعبہ کی تولیت کے زیادہ تر حقوق بھی حضرت ہاشم نے حاصل کرلئے اور ان سے یہ تمام اختیارات حضرت عبدالمطلب کو بھی وراثتاََ حاصل ہوۓ.. ان کی حیثیت اپنے والد حضرت ہاشم کی طرح مکہ کے سردار کی تھی لیکن ان کی وفات نے دفعتاََ بنو ہاشم کے اس رتبہ امتیاز کو گھٹا دیا اور کئی دھائیوں بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دنیاوی اعتبار سے خاندان بنوامیہ خاندان بنو ہاشم پر غالب آگیا اور مکہ کی مسند ریاست پر "حرب" متمکن ہوا جو "امیہ" کا نامور فرزند تھا.. حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ انہی حرب بن امیہ کے بیٹے تھے اور حرب کے بعد مکہ کے سردار اور سپہ سالار بنے.. حرب بن امیہ نے ریاست اور تولیت خانہ کعبہ کے جملہ اختیارات اپنے قبضہ میں کرلئے اور صرف "سقایہ" یعنی حاجیوں کو پانی پلانے کی سعادت ہی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس باقی رہی جو حضرت عبدالمطلب کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے.*.
*حضرت عبدالمطلب کے مختلف ازواج سے دس بیٹے تھےجنمیں سے آنحضرتﷺ کے والد *حضرت عبداللہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالی' عنہ کے والد*
*جنابِ ابو طالب ماں کی طرف سے سگے بھائی تھے اس لئے حضرت عبدالمطلب نے آپ کو حضرت ابوطالب کے ہی آغوش تربیت میں دے دیا.. اس کے علاوہ حضرت عبدالمطلب نے اپنی وفات کے وقت اپنی بیٹیوں یعنی آپ کی پھوپھیوں اروی' , امیمہ , برہ , صفیہ , عاتکہ اور ام حکیم البیضاء کو بلا کر آنحضرت ﷺ کی پرورش اور خیال رکھنے کی وصیت کی*
*حضرت ابو طالب اپنے والد کی وصیت کے مطابق حضور اکرم ﷺکو اپنے گھر لے آئے.. ان کی بیوی حضرت فاطمہ بنت اسد بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت محبت کرتی تھیں اور حضور ﷺ کی پرورش میں انہوں نے بڑی دلجمعی سے حصہ لیا.. حضرت ابوطالب بھی آپ سے بہت محبت کرتے تھے اور مرتے دم تک آپ کے سر پر کسی مضبوط سائبان کی طرح سایہ کئے رکھے.. ان کی محبت اس درجہ بڑھی ہوئی تھی کہ آپ کے مقابلہ میں اپنی سگی اولاد کی بھی پرواہ نہ کرتے اور حضرت عبدالمطلب کی طرح ہر وقت آپ کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتے..*
*حضرت ابو طالب کثیر العیال تھے اس لئے بڑی عُسرت اور تنگدستی سے گزر بسر ہوتی تھی.. باوجود کم سِنی کے حضورﷺ نے اپنے چچا کے گھر کی یہ حالت دیکھی تو کام کاج کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کیا.. لوگوں کی بکریوں کو اُجرت پر چراتے اور بکریوں کو مکہ کی ایک پہاڑی "اجیاد" کے قریب "اریقط" نامی مقام پر لے جایا کرتے اور اس سے جو کچھ اجرت ملتی وہ اپنے چچا کو دیتے.. عرب میں بکریاں چرانا کوئی معیوب کام نہ تھا.. بڑے بڑے شرفاء اور امراء کے بچے بکریاں چرایا کرتے تھے اور یہ ان بچوں کے لئے کوئی کام نہیں بلکہ ایک مشغلہ کی حیثیت رکھتا تھا اور عرب طرز معاشرت کا جائزہ لیا جاۓ تو اسے باآسانی سمجھا جاسکتا ہے*
*زمانہ رسالت میں آپ اس سادہ اور پرلطف مشغلہ کا ذکر فرمایا کرتے تھے.. ایک مرتبہ آپ صحابہ کرام کے ساتھ اسی جنگل میں تشریف لے گئے.. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ اراک (پیلو کے* درخت) کے *پھل چُن رہے تھے تو*
*آپ ﷺ نے فرمایا.. "جو سیاہ*
*ہو گیا وہ لے لو کہ وہی سب سے اچھا ہوتا ہے.." اس پر صحابہ نے عرض کیا.. "یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ بھی بھیڑ* *بکریاں چرایا کرتے تھے.." فرمایا.. "ہاں ! کوئی پیغمبر ایسا نہیں گزرا جس نے بھیڑ بکریاں نہ چرائی ہوں.*
*دس بارہ سال کی عمر تک آپ ﷺ کا یہ مشغلہ جاری رہا
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی
بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں*▪️
*واٹس ایپ چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کلک کریں* ▪️
▪️ *بچوں کی اسلامی تربیت گروپ میں شمولیت کے لئے تربیت لکھ کر وٹس ایپ میسج کیجئے
+92-308-9248729