المعرفت منزل
روایات کے مطابق جب آپﷺ پیدا ہوۓ تو فوراََ حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کو اس خوشخبری کی اطلاع حضرت عبدالمطلب کو دینے کے لئے بھیجا گیا.. حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا حضرت عبداللہ کی کنیز تھیں.. ان کا اصل نام برکہ تھا.. ان کی شادی بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کردی تھی جن سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ پیدا ہوۓ..
حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا خوشی کے مارے دوڑتی ہوئیں حضرت عبدالمطلب کے پاس پہنچیں اور انہیں آپﷺ کی پیدائش کی خوشخبری دی.. حضرت عبدالمطلب جو اس وقت حرم کعبہ میں موجود تھے , آپ ﷺ کی پیدائش کی خبر سن کر وہ بےحد مسرور ہوۓ اور حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ فوراََ گھر پہنچے.. وہاں "ننھے حضور" ﷺ کے حسن و جمال کو دیکھ کر ششدر رہ گئے اور پھر اپنے جذبات کا اظہار چند اشعار میں بیان کیا جن میں آپﷺ کے حسن و جمال کو "غلمان" کے حسن و جمال سے برتر بتایا.. پھر خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے آپ کو حضرت عبداللہ کا نعم البدل عطا فرمایا..
(یاد رہے کہ آپ ﷺ کے والد حضرت عبداللہ , دادا حضرت عبدالمطلب اور پردادا حضرت ہاشم تینوں ہی آپ ﷺ کی طرح نہایت خوبصورت اور مردانہ وجاہت کا پیکر تھے)
"بیہقی" مختلف حوالوں سے جن میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں , بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ مختون یعنی ختنہ شدہ پیدا ہوۓ تھے جس پر حضرت عبدالمطلب نے بہت مسرت آمیز حیرت کا اظہار فرمایا..
"بیہقی" نے ہی مختلف حوالوں سے یہ بھی بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ کی پیدائش کے بعد حضرت عبدالمطلب نے آپ ﷺکو اپنے گھر کی عورتوں کے سپرد کردیا.. وہ ہر صبح کو حضرت عبدالمطلب کو بتاتیں کہ انہوں نے ایسا بچہ کبھی نہیں دیکھا.. وہ بتاتیں کہ نومولود یعنی ننھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کو ہمیشہ بیدار ہی نظر آتے ہیں اور آنکھیں کھولے ٹکٹکی باندھے آسمان کو تکتے رہتے ہیں.. اس پر حضرت عبدالمطلب خوشی کا اظہار فرماتے کہ انہیں امید ہے کہ ان کا پوتا ﷺ بڑی شان والا ہوگا..
شروع کے چند دن آپﷺ کو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ نے دودھ پلایا.. دو تین دن بعد آپ کو دودھ پلانے کا شرف حضرت ثوبیہ رضی اللہ عنہا کو نصیب ہوا.. حضرت ثوبیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ وسلم کے چچا۔
"ابو لہب" کی کنیز تھیں.. ابو لہب نے آپ ﷺ کی ولادت کی خوشی میں انہیں آزاد کر دیا.. حضرت ثوبیہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ کے ہم عمر چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو بھی دودھ پلایا تھا.. ان کے علاوہ چند اور عورتوں نے بھی آپ ﷺ کو دودھ پلایا..
افسوس کہ آپ ﷺ کی پیدائش پر خوشیاں منانے والا ابو لہب بعدازاں آپﷺ کا ایک بدترین مخالف بن کر سامنے آیا اور وہ اور اس کی بیوی "ام جمیل" ساری زندگی اسلام مخالف سرگرمیوں میں مصروف رہے.. ابولہب شروع اسلام میں آپ ؤ کا شاید سب سے بڑا مخالف تھا.. غالباََ یہی وہ شخص ہے جس نے تب قریش مکہ کو بدراہ کیا اور آپ ﷺ کی بربادی کی بدعائیں دیں جب آپﷺ نے کوہ صفا پر اپنی ساری قوم کو اکٹھا کرکے توحید کی دعوت دی.. اسکی بیوی
ام جمیل کی سیاہ کاریوں میں ایک یہ سیاہ عمل بھی شامل تھا کہ آپ ﷺ جن راستوں سے گزرنے والے ہوتے یہ ان راستوں پر کانٹے بچھا دیتی.. ان دونوں کی مذمت میں ایک پوری سورہ نازل ہوئی جس کا نام اسی بدبخت کے نام پر سورہ ابی لہب ہے.. اسکا تفصیلی ذکر آگے آئیگا..
=========
*سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی..*
*سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..*
▪️ *بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں*▪️
*واٹس چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کلک کریں* ▪️

