المعرفت منزل
*ولادت مبارکہ کے ساتویں دن آپ ﷺ کے عقیقہ کی رسم ادا کی گئی.. اس موقع پر حضرت عبدالمطلب نے قریش مکہ کو دعوت دے کر شریک کیا.. دوران مجلس قریش مکہ میں سے* کسی نے دریافت کیا..
"اے عبدالمطلب ! کیا آپ نے اپنے پوتے کا کوئی نام بھی رکھا ہے..؟"*
*حضرت عبدالمطلب نے فرمایا.. "ہاں میں نے اس کا نام "محمد" ﷺ رکھا ہے.."*
*یہ نام سن کر قریش مکہ نے بہت تعجب کا اظہار کیا کہ یہ کیسا نام ہے کیونکہ عرب کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی کسی کا نام "محمد" نہ رکھا گیا تھا اس لئے قریش مکہ کی حیرت بجا تھی.. اس پر حضرت عبدالمطلب نے فرمایا.. "ہاں میں نے اس کا نام "محمد" رکھا ہے اور مجھے زمین و آسماں میں ہر طرف اس نام کی گونج سنائی دے رہی ہے.."*
*اس زمانہ میں دستور تھا کہ شہر کے رؤساء اور شرفاء اپنے شیرخوار بچوں کو اطراف کے دیہات اور قصبات میں بھیج دیتے تھے.. یہ رواج اس غرض سے تھا کہ بچے شہری ماحول سے دور ان دیہات اور قصبوں کے خالص بدوی ماحول میں پرورش پاکر نہ صرف خالص عربی زبان سیکھ سکیں اور اپنے اندر فصاحت و بلاغت کا جوہر پیدا کرسکیں بلکہ وہاں چند سال رہ کر عربوں کی خالص خصوصیات بھی اپنے لاشعور میں سمو سکیں..*
*شرفاء عرب نے مدتوں اس رسم کو محفوظ رکھا.. یہاں تک کہ بنو امیہ نے دمشق میں پایہ تخت قائم کیا اور شاہانہ شان و شوکت میں کسری' و قیصر کی ہمسری کی.. تاہم ان کے بچے حسب معمول صحراؤں میں بدوؤں کے گھر ہی پرورش پاتے رہے لیکن خلیفہ "ولید بن عبدالملک" جب کچھ خاص اسباب کی وجہ سے وہاں نہ جا سکا اور حرم شاہی میں ہی پلا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ عربی کی فصاحت و بلاغت سے محروم ہوگیا اور بنوامیہ میں وہ واحد خلیفہ تھا جسے فصیح و بلیغ عربی صحیح طرح سے بولنا نہیں آتی تھی..*
*غرض اس دستور مذکورہ کی خاطر اطراف کے دیہات و قصبات سے عورتیں سال میں دو مرتبہ شہروں کا رخ کرتی تھیں جہاں شھر کے شرفاء اور رؤساء اپنے بچے ان کے حوالے کردیتے اور ساتھ میں معاوضہ کے طور پر ان عورتوں کو اتنا کچھ روپیہ پیسہ مل جاتا کہ ان کی زندگی بھی آرام سے گزرتی..*
*اسی دستور کے موافق آنحضرت ﷺ کی پیدائش مبارکہ کے چند روز بعد قبیلہ بنو ہوازن کی چند عورتیں شیرخوار بچوں کی تلاش میں مکہ آئیں.. ان میں سے ایک حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں.. اتفاق سے باقی سب عورتیں تو بچے حاصل کرنے میں کامیاب رہیں مگر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا بوجوہ بچہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں..*
*اب وہ کیوں ناکام رہیں اور پھر کیسے آپ ﷺ تک پہنچیں , اس کے متعلق کتب تاریخ میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی زبانی بیان کئے گئے نہائت ہی دلچسپ واقعات کا ذکر کیا گیا ہے.. چونکہ یہ واقعات تفصیل سے بیان کرنے کی ضرورت ہے اور یہاں قسط کی غیرضروری طوالت کا خطرہ ہے تو*
*ان شاء اللہ یہ سب دلچسپ واقعات اور پھر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں پیش آنے والے عجیب و غریب معجزات کا ذکر آئندہ قسط میں کیا جائیگا..*
*سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی..*
*سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..*
▪️ *بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں*▪️
*واٹس ایپ چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کلک کریں* ▪️
▪️ *بچوں کی اسلامی تربیت گروپ میں شمولیت کے لئے تربیت لکھ کر وٹس ایپ میسج کیجئے 03089248729* ▪️

