المعرفت منزل
حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کا عظیم مقام ہے.. وہ آنحضور ﷺ کی رضاعی والدہ ہیں.آپ ﷺ کو حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا سے بےحد محبت تھی.. مورخین نے بیان کیا ہے کہ بہت عرصہ بعد عہد نبوت میں ایک بوڑھی عورت آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں.. غربت و افلاس سے ان کا حال دگرگوں تھا.. آپ ﷺ نے فوراً پہچان لیا اور وفور شوق و محبت سے اپنی نشست سے اٹھے اور "میری ماں , میری ماں" کہہ کر ان سے لپٹ گئے.. پھر آپ ﷺ نے چادر بچھا کر عزت و تکریم سے ان کو اس پر بٹھایا.. یہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا تھیں..
سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ روایت بھی تاریخ میں منقول ہے کہ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور جوانی میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں مکے حاضر ہوئی تھیں.. حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کی خدمت میں کئی اونٹ اور اونٹنیاں پیش کی تھیں.. مدینہ منورہ میں حاضری کے وقت نبی پاک ﷺ نے بکریوں کا ایک ریوڑ اور سازو سامان سے لدی ایک ناقہ ان کی خدمت میں پیش کی.. وہ ان تحائف سے زیادہ اس بات پر شاداں و فرحاں تھیں کہ ان کے رضاعی بیٹے کو اللہ نے اس سے بھی بلند مقام عطا فرمایا تھا جس کی دعائیں اور تمنائیں وہ کرتی تھیں..
اس کے علاوہ آپ کو اپنی رضائی بہن سیدہ شیما رضی اللہ عنہا سے بہت انسیت تھی.. آپ کی شیرخوارگی کا زمانہ میں وہی آپ کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں..
سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نےدوسال تک آپﷺ کو بڑی محبت سے دودھ پلایا اور آپ کی پرورش کی.. آپ ﷺ کی نشو و نما دوسرے بچوں سے بہت اچھی تھی اس لئے جسمانی اعتبار سے دو سال کی عمر میں بھی آپ ﷺ چار برس کے دکھائی دیتے تھے.. دو سال کی عمر تک حلیمہ سعدیہ آپ ﷺ کو سال میں دو بار والدہ ماجدہ حضرت آمنہ سے ملانے لیجاتیں اور پھر واپس لاتیں.. دوسال بعد جب آپ ﷺ کو واپس مکہ لے جانے کا وقت آیا تو یہ اَمر حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے لیئے بہت تکلیف کا باعث بن گیا کیونکہ آپﷺ سے ان کو بےانتہا محبت تھی جس کی وجہ سے آپﷺ کی جدائی برداشت کرنا ان کے لئے کوئی آسان کام نہ تھا.. حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں..
"جب دوسال گزر جانے پر میں آپ کو لیکر حضرت آمنہ کے پاس مکہ پہنچی تو آپ کی جدائی کے غم میں میری آنکھوں سے بےتحاشہ آنسو بہہ رہے تھے.. یہ دیکھ کر حضرت آمنہ بولیں.."کیا تم اسے اپنے پاس کچھ اور رکھنا چاہتی ہو..؟"
ان کی زبان سے یہ سن کر میں خوشی سے بےحال ہوکر بولی.."اگر آپ چند مہینے اسے میرے پاس اور رہنے دیں تو آپ کی بڑی مہربانی ہوگی.." میری اس درخواست پر حضرت آمنہ نے بخوشی مجھے اس کی اجازت دے دی..
حضرت آمنہ کے اس فیصلے کی ایک بڑی اور غالباََ اصل وجہ یہ تھی کہ ان دنوں میں مکہ میں وبا پھیلی ہوئی تھی.. حضرت آمنہ نے آپ ﷺ کو مکہ میں ٹھہرانا مناسب نہ سمجھا اور واپس حضرت حلیمہ کے ساتھ گاؤں بھجوادیا.. تاہم چند ماہ کا یہ فیصلہ بوجوہ کئی سالوں پر محیط ہوگیا اور آپ ﷺحضرت حلیمہ کے پاس مذید چار سال رہے اور چھ سال کی عمر میں ہی واپس مکہ اپنی والدہ ماجدہ کے پاس آسکے..
چھ سال کا یہ عرصہ حضرت حلیمہ اور ان کے گھر کے لئے بےپناہ خیروبرکت کا سبب بنا رہا اور ان کا گھر سارے قبیلے کے لئے رشک کاباعث بن گیا.. حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نے جس محبت اور اپنائیت سے محمد عربیﷺ کو پالا پوسا وہ یاد گار اور تاریخی حقیقت ہے.. یہ بھی ایک مسلّمہ امر ہے کہ نبی رحمت ﷺ کے وجود ِمسعود سے اس خاندان کی قسمت ہی بدل گئی.. حضور ﷺ کے قیام بنی سعد کے دوران پورے علاقے اور قبیلے میں اس سعادت مند بچے کا تذکرہ زبان زد عام ہو گیا کیونکہ برکات و انعامات کی بارش نے سبھی کو نہال کر دیا تھا.. آپ ﷺکے اپنے خاندان میں واپس چلے جانے کے بعد بھی قبیلے اور بالخصوص حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آپ کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا..
=========
*سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی.*.
▪️ *بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں*▪️
*واٹس ایپ چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کلک کریں* ▪️

