المعرفت منزل
حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے شق صدر کے واقعہ کے بعد آپ ﷺ کو چار یا پانچ سال کی عمر میں آپ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ کے حوالے کر دیا.. انہوں نے آپ ﷺ کی خدمت کے لئے
"اُم ایمن" (رضی اللہ عنہا) کو مامور کیا جو آپ کے والد کی کنیز تھیں.. ان کا اصلی نام برکہ تھا.
جب آپ ﷺ کی عمر چھ سال کی ہوئی تو آپ ﷺکی والدہ حضرت آمنہ حضورﷺ کو ساتھ لے کر اپنے مرحوم شوہرحضرت عبداللہ کی قبر کی زیارت کے لئے یثرب(مدینہ) روانہ ہوئیں.. دو اونٹوں پر مشتمل اس مختصرسےقافلہ میں آپﷺ کی کنیز حضرت ام ایمن (رضی اللہ عنہا) بھی ہمراہ تھیں.. وہ "دارالنابغہ" میں اتریں جہاں حضرت عبداللہ مدفون تھے اور ایک مہینہ وہاں قیام کیا..*
*وہاں آپ ﷺ نے بنی نجار کے تالابوں میں تیرنا سیکھا اور گڑھی کے سامنے ننھیالی لڑکوں کے ساتھ کھیلا کرتے.. حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ یثرب (مدینہ) کے یہود آپ ﷺ کو بڑے غور سے دیکھتے.. میں نے سنا کہ ان میں سے ایک کہہ رہا تھا کہ یہ اس اُمت کے نبی ہیں اور یہی ان کا دارالحجرت ہے.. میں نے اُن کی یہ بات ذہن میں محفوظ کرلی.. واپسی میں بدر کے قریب "ابواء" کے مقام پر حضرت آمنہ بیمار ہوئیں جس کی وجہ سے اس قافلہ نے وہاں قیام کیا.. حضرت آمنہ نے وہیں وفات پائی.. وقتِ آخر آپ ﷺ اپنی والدہ کے سرہانے بیٹھے تھے.. ماں نے اپنے جلیل القدر بیٹے کو جی بھر کے دیکھا اور چند شعر پڑھے جن کا متن "مواہب لدنیہ" میں محفوظ ہے.. بوقت وفات حضرت آمنہ کی عمر تقریباً ۲۸ سال تھی اور وہ حضور اکرم ﷺ کی ولادت کے بعد چھ سال تین مہینے تک زندہ رہیں..*
*حضرت آمنہ کو اسی جگہ دفن کیا گیا اور حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا آپ کو لیکر مکہ واپس حضرت عبدالمطلب کے پاس پہنچیں.. یوں شکم مادر میں ہی یتیم ہونے والے "ننھے حضورﷺ" اپنی والدہ کے ساتھ بھی زیادہ دن نہ گزار سکے..*
*حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا نے ایک ماں کی طرح آپ ﷺ کی نگرانی کی.. ان کے بارے میں حضور اکرمﷺ فرمایا کرتے تھے کہ یہ خاتون میری والدہ کے بعد میری ماں ہیں.*
*حضورﷺ جب نبی بنائے گئے تو حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا اولین تصدیق کرنے والوں میں سے ہو گئیں.. حضور ﷺ نے انہیں آزاد کردیا.. ان کا پہلا نکاح بنی حارث کے عبید بن زید بن عمرو سے ہوا جن سے ایمن پیدا ہوئے جن کے نام پر ان کی کنیت اُمّ ایمن تھی.. پہلے شوہر کے انتقال کے بعد حضور ﷺ نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کروایا جن سے اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے.. حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی..*
*والدہ ماجدہ کی وفات کے بعد حضور ﷺ کو آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے اپنی کفالت میں لے لیا.. حضرت عبدالمطلب کو آپ سے بہت محبت تھی اور آپ کو سب اولادوں سے بڑھ کر محبوب جانتے تھے.. روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عبدالمطلب کو یقین تھا کہ ان کا پوتا بڑا نام پانے والاہےچنانچہ جب بنی مدلج کی ایک جماعت اُن سےملنے آئی تو ان میں بہت سے قیافہ شناس تھے.. انہوں نے جب حضور ﷺ کا نقشِ کف پا دیکھا تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ کفِ پا (جو مصلیٰ ابراہیم کہلاتا ہے) کے مشابہ پایا.. اس لئے انہوں نے حضرت عبدالمطلب سے کہا کہ اس بچے کی بطور خاص حفاظت اور نگرانی کریں.. چنانچہ حضرت عبدالمطلب حطیم میں اپنی نشست پر حضور ﷺ کو اپنے قریب بٹھا کر پشت پر ہاتھ پھیرا کرتے اور کہتے کہ اس کی تو بہت بڑی شان ہے.. دادا اپنے پوتے کو ہمیشہ ساتھ رکھتے اور اپنے ساتھ ہی کھانا کھلاتے.. اسی سال حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی..*
*حضرت عبدالمطلب کے زیرسایہ آپ کا بچپن بہت آرام سے گزر رہا تھا.. صرف حضرت عبدالمطلب ہی نہیں بلکہ آپ سے آپ کے تمام چچا اور پھوپھیاں بھی بےحد محبت کرتی تھیں لیکن اللہ کی مشیت کچھ اور تھی اور ابھی آپ اٹھ سال کے تھے کہ حضرت عبدالمطلب کا بھی انتقال ہوگیا.. آپ کو اپنے دادا سے بہت انس و محبت تھی.. جب حضرت عبدالمطلب کا جنازہ اٹھا تو آپ بھی جنازہ کے ساتھ تھے اور شدت غم سے روتے جاتے تھے.. اس وقت حضرت عبدالمطلب کی عمر بیاسی سال تھی..*
*آٹھ سال کا ایک معصوم بچہ جس کے ماں باپ بھی وفات پا چکے اور اب شفیق دادا بھی.. نہ کوئی بہن نہ کوئی بھائی.. تن تنہا.. لیکن کون جانتا تھا کہ بظاہر یہ بےآسرا , معصوم بچہ کچھ ہی عرصہ بعد ہزاروں لاکھوں کا آسرا بننے والا ہے.. بلاشک و شبہ آپ ﷺ کی زندگی کے لمحہ لمحہ میں ہمارے لئے سیکھنے کو بہت کچھ ہے.
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی
بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں
واٹس ایپ چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کریں
▪️ *بچوں کی اسلامی تربیت گروپ میں شمولیت کے لئے تربیت لکھ کر وٹس ایپ میسج کیجئے

