المعرفت منزل
ابن عساکر نے جلہمہ بن عرفطہ سے روایت کی ہے کہ میں مکہ آیا.. لوگ قحط سے دوچار تھے.. قریش نے کہا.. ابو طالب ! وادی قحط کا شکار ہے , بال بچے کال کی زد میں ہیں ,چلئے !
(کعبہ چل کر) بارش کی دعا کیجئے..
حضرت ابو طالب ایک بچہ ساتھ لے کر برآمد ہوئے.. بچہ ابر آلود سورج معلوم ہوتا تھا جس سے گھنا بادل ابھی ابھی چھٹا ہو.. اس کے ارد گرد اور بھی بچے تھے.. حضرت ابو طالب نے اس بچے کا ہاتھ پکڑ کر اس کی پیٹھ کعبہ کی دیوار سے ٹیک دی.. بچے نے ان کی انگلی پکڑ رکھی تھی.. اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا نہ تھا لیکن (دیکھتے ہی دیکھتے ) اِدھر اُدھر سے بادلوں کی آمد شروع ہوگئی اور ایسی دھواں دھار بارش ہوئی کہ وادی میں سیلاب آگیا اور شہر و بیاباں شاداب ہوگئے.. بعد میں حضرت ابوطالب نے اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ ﷺ کی مدح میں کہا تھا..
(وأبیض یستسقی الغمام بوجہہ
ثمال الیتامی عصمۃ للأرامل)
"وہ ایسے روشن و منور ہیں کہ ان کے چہرے کی برکت سے بارش مانگی جاتی ہے.. یتیموں کے ماویٰ اور بیواؤں کے محافظ ہیں..*"
*گانے بجانے کی محفل سے محفوظ..*
*حضرت ابو طالب کے مکان میں قیام کے دوران دو اہم واقعات پیش آئے.. ایک یہ کہ ایک مرتبہ گرمی کے موسم میں مکہ میں ایک جگہ گانے بجانے کی محفل *منعقد ہوئی تھی.. آپ ﷺ نے اس محفل میں شرکت کی خاطر بکریوں کو ایک ساتھی چرواہے کے حوالے کیا اور محفل کے مقام* تک پہنچے جو چراگاہ سے دُور تھی.. گرمی میں دور تک چل کر آنے سے آپ ﷺ بہت تھک گئے تھے اور محفل ابھی شروع نہیں ہوئی تھی.. اس لئے آپ ﷺ ایک درخت کے سایہ تلے لیٹ گئے تو آنکھ لگ گئی.. جب بیدار ہوئے تو محفل ختم ہو چکی تھی.. اس طرح آپ ﷺ اس محفل سرود میں شریک نہ ہو سکے اور آئندہ بھی آپﷺ کو اس طرح کے لہو و لعب میں شرکت کرنے کا خیال تک نہ آیا..*
*بت پرستی سے محفوظ..*
*دوسرا واقعہ یہ کہ ایک مقام پر کھجور کے دو مقدس درخت تھے جہاں بوانہ نامی بت نصب تھا.. لوگ وہاں جا کر بت پر جانور بھینٹ چڑھاتے , سر منڈاتے اور دیگر مشرکانہ رسوم ادا کرتے تھے..۔۔۔حضور ﷺ کو ہر سال اس تقریب میں شرکت کے لئے کہا جاتا مگر آپ ﷺ انکار فرماتے.. ایک مرتبہ چچاؤں اور پھوپھیوں کے اصرار پر آپ ﷺ وہاں گئے لیکن بہت دیر تک نظروں سے اوجھل رہے.. جب دکھائی دئیے تو چہرے پر خوف کے آثار تھے.. پھوپھیوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ جب بھی اُس بُت کے قریب جانا چاہتا تو ایک سفید رنگ اور دراز قد شخص میرے قریب آتا اور کہتا کہ "اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پیچھے ہٹ جائیے اور بت کو ہاتھ مت لگائیے" اس واقعہ کے بعد آپ ﷺ کسی ایسی تقریب میں نہیں گئے جہاں بتوں پر بھینٹ چڑھائی جاتی تھی..*
*ایک بار قبیلہ لہب کا ماہر قیافہ شناس مکہ آیا.. سب لوگ اپنے بچوں کو اس کے پاس لے گئے.. حضرت ابو طالب بھی اپنے بچوں کے ساتھ حضور صلی ﷺ کو اس کے پاس لے گئے.. اس نے آپ ﷺ کو دیکھا اور پھر کسی کام میں مشغول ہو گیا.. تھوڑی دیر بعد اس نے آپ کو اپنے سامنے لانے کو کہا لیکن حضرت ابو طالب نے اس کا تجسس دیکھ کر آپ ﷺ کو اپنے گھر بھیج دیا.. اس نے کہا کہ اس بچہ کو میرے پاس لاؤ.. خدا کی قسم ! وہ بہت بڑا آدمی بننے والا ہے..*
*شام کا تجارتی سفر..*
*حضرت ابوطالب کا پیشہ بھی اپنے آباؤاجداد کی طرح تجارت تھا.. وہ سال میں ایک بار تجارت کی غرض سے ملک شام کو جاتے تھے.. آپ ﷺ کی عمر تقریبََا بارہ برس تھی کہ حضرت ابوطالب نے حسب دستور شام کے تجارتی سفر کا ارادہ کیا.. آپ ﷺ نے بھی ان کے ساتھ چلنے کی* *خواہش کا اظہار کیا.. حضرت ابوطالب نے آپ ﷺ کی کم عمری , دوران سفر مشکلات اور تکلیفوں یا کسی اور وجہ سےآپ ﷺ کو ساتھ نہ لے جانا چاہا لیکن آنحضرت ﷺ کو اپنے* *شفیق چچا سے اتنی محبت تھی کہ جب حضرت ابوطالب چلنے لگے تو آپﷺ ان سے لپٹ گئے.. اب حضرت ابوطالب کے لئے بھی آپ ﷺ کو خود سے جدا کرنا ممکن نہ رہا اور*
*آپ ﷺ کو بھی ساتھ لے لیا..*
*مؤرخین کے مطابق اسی سفر شام کے دوران ایک عیسائی راہب "بحیرہ" کا مشہور واقعہ* *پیش آیا جس نے آپ ﷺ میں کچھ ایسی نشانیاں دیکھیں جو ایک آنے والے پیغمبر کے بارے میں قدیم آسمانی کتب میں لکھی تھیں.. اس نے حضرت ابوطالب کو بتایا کہ اگر شام کے یہود یا نصاریٰ نے یہ نشانیاں پالیں تو آپ ﷺ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے چنانچہ حضرت ابوطالب نے یہ سفر ملتوی کردیا اور واپس مکہ آ گئے..*
*اس واقعہ کو ان شاء اللہ اگلی قسط میں تفصیل سے بیان کیا جاۓ گا..*
سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی
بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں*▪️
واٹس ایپ چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کلک کریں
بچوں کی اسلامی تربیت گروپ میں شمولیت کے لئے تربیت لکھ کر وٹس ایپ میسج کیجئے 03089248729