المعرفت منزل
پچھلی قسط میں مشرکین حجاز و عرب کے عقائد اور بت پرستی کی تاریخ بیان کی گئی.. اس قسط میں ہم آپ ﷺ کی ولادت مبارکہ کے وقت سرزمین عرب میں موجود دوسرے مذاہب اور ادیان کا ایک مختصر جائزہ پیش کریں گے۔
*یہودیت*..
عرب میں بت پرستی کے بعد دوسرا اہم ترین مذہب یہودیت تھا۔ یہ لوگ دو وجہ سے اس سرزمین میں آباد ہوۓ۔ ایک تو اس لئے کہ حضرت عیسی' علیہ السلام کی پیدائش سے پانچ سو سال پہلے جب بابل کے بادشاہ "بخت نزار" نے فلسطین کو تاراج کیا اور تباہ و برباد کیا تو یہودیوں کے بہت سے قبائل جان بچاکر دنیا کے کئی دوسرے حصوں کی طرف بھاگے.. انہی میں سے چند قبائل عرب کی طرف آ نکلے اور خود کو یہاں محفوظ جان کر آباد ہوگئے..
دوسری بہت اہم وجہ یہ تھی کہ یہودیوں کو تورات و زبور کی پیش گوئیوں کی وجہ سے علم تھا کہ اللہﷻ عنقریب اپنا آخری پیغمبرﷺ سرزمینِ عرب میں مبعوث فرمانے والا ہے.. یہ اس نبی کو اپنا نجات دہندہ جانتے تھے اس لئے یہ لوگ آخری نبی کے انتظار میں یہاں آ کر آباد ہوگئے.. چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لیکر آپ ﷺ تک جتنے بھی نبی آۓ سب بنی اسرائیل میں سے ہی مبعوث ہوۓ تھے تو اس بناء پر ان کا خیال تھا کہ آخری نبی بھی بنی اسرائیل سے ہی ہوگا مگر جب آپ ﷺ کو نبوت ملی تو اس بات کے باوجود کہ تورات و زبور اور دوسرے الہامی صحائف میں آخری نبی کی جو نشانیاں بتائی گئی تھیں سب کی سب آپ ﷺ میں کھلے عام نظر آ گئیں مگر عرب کے یہود نے محض اس حسد اور تعصب پر کہ آپﷺ بنی اسرائیل کے بجاۓ بنی اسماعیل میں سے تھے , آپ ﷺ کو نبی ماننے انکار کردیا..
سب سے پہلے یہ لوگ یثرب (مدینہ) اور خیبر کے علاقہ میں آباد ہوۓ.. ان کے اثر سے کچھ مقامی افراد نے بھی یہودیت اختیار کرلی.. پھر 354 قبل مسیح میں یثرب(جو بعد میں مدینةالنبی بنا) سے دو یہودی مبلغ یمن پہنچے تو ان کے اثر سے یمن کے حمیری بادشاہ "یوسف ذونواس" نے جب یہودی مذہب قبول کرلیا تو یمن میں یہودیت کو بہت فروغ ملا..
یہ لوگ اپنے علم اور دولت کی وجہ سے خود کو عربوں سے بہت برتر خیال کرتے تھے اور عربوں کو اپنے مقابلے میں "اُمّی" یعنی جاہل سمجھتے تھے.. نسلی برتری کا شکار یہ متعصب قوم خود کو خدا کا چہیتا اور برگزیدہ تصور کرتی تھی.. ان کا خیال تھا کہ جہنم کی آگ ان کو چند دن سے زیادہ نہیں چھوۓ گی.. حالانکہ یہ لوگ اپنے تمام تر اوصاف کھوچکے تھے.. سودخوری ان کا شعار بن چکی تھی.. حسبِ ضرورت تورات اور مذہبی احکام میں تحریف کرنا ان کے ہاں عام تھا.. مذہب گویا ان کے گھر کی لونڈی جیسا تھا جس کے ساتھ وہ جو چاہیں کریں.. چونکہ خود کو تمام اقوام سے برتر جانتے تھے تو ان سے ہر قسم کا دجل و فریب اور ظلم جائز تھا تاہم اپنی پوری دنیا پرستی کے باوجود مدینہ اور اردگرد کے علاقے میں ان کو الٰہیات اور خدائی علوم میں اجارہ داری حاصل تھی.. ان کے اثر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مدینہ کے قبائل اوس و خزرج میں کسی کی اولاد نہ ہوتی تو وہ منت مانتا کہ بیٹا ہونے کی صورت میں اسے یہودی بنادیں گے..
*عیسائیت*
عربوں میں تیسرا اہم مذہب عیسائیت تھا.. حضرت عیسی علیہ السلام سے کم و بیش 250 سال بعد روم کی عیسائی حکومت کے زیراثر شام کی طرف کے عرب قبائل نے عیسائیت قبول کرلی.. دوسری طرف حیرہ کے عرب بادشاہ "نعمان بن منذر" نے دین عیسوی قبول کیا تو وہاں کے بہت سے لوگ عیسائی ہوگئے جبکہ یمن میں جب عیسائی مبلغین کی تبلیغ پر کچھ لوگ عیسائی ہوۓ تو یہودی بادشاہ "یوسف ذونواس" نے ان پر بے پناہ ظلم و ستم کیا اور پھر قتل کرادیا.. روم کی عیسائی حکومت تک جب یہ خبر پہنچی تو قیصر روم بہت غضبناک ہوا.. اس نے شاہ حبشہ کو جو رومی حلقہ اثر میں ایک عیسائی حکمران تھا , حکم دیا کہ یوسف ذونواس سے اس ظلم و ستم کا بدلہ لیا جاۓ چنانچہ وہاں سے ایک حبشی نژاد لشکر آیا اور یوسف ذونواس کو شکست دیکر یمن پر بھی عیسائی حکومت قائم کردی..
"ابرہہ بن اشرم" اسی لشکر کا ایک فوجی سردار تھا جو بتدریج ترقی کرکے بالآخر یمن کا نیم خودمختار بادشاہ بن بیٹھا.. یہ کٹر عیسائی تھا اور اس نے یمن میں عیسائیت کے فروغ کے لئے بے پناہ کام کیا.. یاد رہے کہ یہ وہی ابرہہ ہے جس نے "صنعاء" میں کعبہ کے مقابلے پر ایک عظیم الشان کلیسا (گرجا) تعمیر کرایا اور پھر خانہ کعبہ کو گرانے کے ارادہ سے مکہ پر حملہ آور ہوا تھا.. (اس واقعہ کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے..)
اس زمانے کے عیسائی حضرت عیسی' علیہ السلام کی تعلیمات کے بجاۓ "سینٹ پال" کے مذہب کے پیرو ہو چکے تھے.. سینٹ پال پہلے یہودی تھا.. اس نے دعو'ی کیا کہ اسے حضرت عیسی' علیہ السلام نے خواب میں حکم دیا ہے کہ میرا دین پھیلاؤ.. یوں وہ عیسائی ہوا اور پھر اس نے بتدریج عیسائیت کو ایک الہامی مذہب سے شرک و گمراہی سے لتھڑا ہوا مذہب بنا دیا.. اس نے عیسائیت میں عقید *تثلیث* یعنی تین خداؤں کا عقیدہ شامل کیا.. حضرت عیسی' علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا ٹھہرایا.. اس نے عیسائیوں کو اس فریب میں مبتلا کردیا کہ حضرت عیسی' علیہ السلام سولی چڑھ کر سب عیسائیوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کرگئے ہیں اور اب انہیں گناہ کی کھلی چھٹی ہے.. سینٹ پال کے زیر اثر عیسائی صرف پادری کے سامنے اعتراف جرم و گناہ کو ہی کافی سمجھتے.. تاہم یہود کے مقابلے میں ان کی اخلاقی حالت قدرے بہتر تھی اور قبول حق کی صلاحیت سے بھی یہ لوگ بہرہ ور تھے.. اس بات کا اندازہ آج بھی کیا جاسکتا ہے کہ آج بھی اسلام کی حقانیت جان کر مسلمان ہونے والوں میں یہودیوں کے مقابلے میں عیسائیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے..
============(باقی آئندہ ان شآءاللہ)
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
▪️ *بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں*▪️
*واٹس چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کلک کریں* ▪️
▪️ *بچوں کی اسلامی تربیت گروپ میں شمولیت کے لئے تربیت لکھ کر وٹس ایپ میسج کیجئے 03089248729* ▪️

