المعرفت منزل
*حضرت عبداللہ کی شادی کے وقت عمر تقریباََ سترہ یا بائیس برس تھی.. عرب میں دستور تھا کہ دولہا شادی کے بعد تین ماہ تک اپنے سسرال میں رہائش پذیر رہتا.. چنانچہ حضرت عبداللہ بھی تین ماہ اپنے سسرال میں مقیم رہے.. بعد ازاں حضرت آمنہ کو لیکر مکہ اپنے گھر واپس آگئے*.
*اسلام سے پہلے دور جہالت میں باقائدہ نکاح کا کوئی عام رواج نہ تھا.. صرف خال خال ہی طبقہ اشرافیہ میں باقائدہ نکاح کیا جاتا ورنہ عام طور پر مرد و زن کے ازدواجی تعلقات زنا کی ہی صورت تھے.. اسلام کے بعد جن کے باقائدہ طریقے سے نکاح ہوۓ تھے ان کی شادیوں کو جائز اور صحیح سمجھا گیا اور ایسے جوڑوں کے اسلام لانے کے بعد ان کے قبل اسلام نکاحوں کو شریعت اسلامی کے مطابق درست قرار دیتے ہوۓ آپ ﷺ نے ان کے دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں سمجھی تھی.. ایسا ہی ایک صحیح اور باقائدہ نکاح حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کا ہوا.. اسی لئے آپ ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ "میری ولادت باقائدہ نکاح سے ہوئی ہے.*
*پہلے کی اقساط میں ذکر کیا جاچکا ہے کہ آپ ﷺ کے پردادا حضرت ہاشم کے دور سے قریش مکہ کے تجارتی قافلے ایران و شام اور یمن و ہند تک جایا کرتے تھے تو ایسا ہی ایک تجارتی قافلہ لیکر حضرت عبداللہ بھی شام کی طرف گئے.. وہاں سے واپس مکہ کی طرف لوٹتے ہوۓ راستہ میں یثرب (مدینہ) کے قریب وہ شدید بیمار پڑگئے.. چنانچہ وہ مدینہ میں ہی اپنے ننھیال اپنے ماموؤں کے پاس ٹھہر گئے جبکہ ان کے ہمسفر مکہ واپس آگئے*
*جب حضرت عبدالمطلب نے ان کے ساتھ اپنے چہیتے بیٹے کو نہ دیکھا تو ان سے حضرت عبداللہ کے بارے میں پوچھا.. انہوں نے جب حضرت عبدالمطلب کو حضرت عبداللہ کی بیماری کی بات بتائی تو حضرت عبدالمطلب بےحد پریشان ہوگئے.. فوراََ اپنے سب سے بڑے بیٹے "حارث" کو یثرب حضرت عبداللہ کی خیریت معلوم کرنے بھیجا لیکن جب جناب حارث یثرب پہنچے تو ان کو یہ اندوھناک خبر ملی کہ حضرت عبداللہ بیماری کی تاب نہ لاکر وفات پا چکے ہیں اور ان کو "دارالغابغہ" میں دفن بھی کیا جاچکا ہے*
*جناب حارث جب یہ المناک خبر لیکر مکہ واپس آۓ تو حضرت عبدالمطلب اپنے جان سے پیارے بیٹے کی جواں موت کا سن کر شدت غم سے بےہوش ہوگئے.. حضرت آمنہ پر اپنے محبوب شوہر کی موت کا سن کر سکتہ طاری ہوگیا.. دوسری طرف سب بہن بھائی اپنی اپنی جگہ اس دکھ کے ہاتھوں بے حال تھے.. خاندان بنو ہاشم پر ایک مجموعی سوگ کا عالم چھا گیا کیونکہ حضرت عبداللہ اپنے حسن و جمال، لیاقت، کردار اور نابغہ روزگار شخصیت کی وجہ سے سارے خاندان کی آنکھ کا تارہ تھے مگر یہ روشن ستارہ محض پچیس سال کی عمر میں ہی ڈوب گیا اور یوں تمام جہانوں کے لئے رحمت بننے والے اللہ کے محبوب نبی ﷺ ابھی شکم مادر میں ہی تھے کہ یتیم ہوگئے*
*جواں سال اور چہیتے بیٹے کی وفات کا غم حضرت عبدالمطلب کے لئے اگر سوہان روح تھا تو دوسری طرف محبوب شوہر کی موت کا دکھ حضرت آمنہ کے لئے لمحہ لمحہ کرب و اذیت کا باعث تھا لیکن اللہ نے ان دونوں کو زیادہ عرصہ غمزدہ نہ رہنے دیا اور حضرت عبداللہ کی وفات سے چند ماہ بعد بروز سوموار 9 ربیع الاول بمطابق 20 اپریل 571 ء کو حضرت آمنہ کے ہاں اللہ کے حبیب حضرت محمد ﷺ پیدا ہوۓ*
*ایک کنیز کو فوراََ حضرت عبدالمطلب کی طرف بھیجا گیا جو خوشی کے مارے دوڑتی ہوئی حضرت عبدالمطلب کے پاس پہنچی جو اس وقت (غالباََ) حرم شریف میں موجود تھے.. اتنی بڑی خوش خبری کو سن کر حضرت عبدالمطلب فوراََ گھر پہنچے اور جب انہوں نے "ننھے حضور" کو دیکھا تو اپنی جگہ کھڑے کے کھڑے رہ گئے اور پھر اپنے جذبات کا اظہار چند اشعار میں بیان کیا جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کو "غلمان" کے حسن و جمال سے برتر بتایا.. پھر خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے آپ کو حضرت عبداللہ کا نعم البدل عطا فرمایا ہے..*
*(نوٹ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے متعلق علماء و محققین کی تحقیق میں اختلاف ہے کچھ کے تحقیق 9ربیع الاول ہی ہے اور کچھ کے مطابق 12 ربیع الاول ہے ماہر فلکیات کی تحقیق سے بهی 9 ربیع الاول صادق آتی ہے*
*جبکہ12 ربیع الاول نبی ﷺ کے وصال پر تمام متفق ہیں*
*سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی..*
*تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنھایہ)*
*تاریخ اسلام (اردو).. اکبر شاہ خان نجیب آبادی..*
▪️ *بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں*▪️
*واٹس چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کلک کریں* ▪️
▪️ *بچوں کی اسلامی تربیت گروپ میں شمولیت کے لئے تربیت لکھ کر وٹس ایپ میسج کیجئے 03089248729* ▪️

