المعرفت منزل
*یہاں ان چند محیر العقول واقعات کا ذکر ضروری ہے جو آپ کی ولادت مبارکہ سے کچھ پہلے اور وقت ولادت پیش آۓ.. *اس ضمن میں ایک وہ واقعہ ہے جب نیم بیداری کے عالم میں*
*آپ ﷺ کی پیدائش سے کچھ* *پہلے حضرت آمنہ دردزہ میں مبتلا تھیں، آپ فرماتی ہیں کہ ان کے جسم سے ایک نور نکلا جس نے تمام مشرق و مغرب کو روشن کردیا.. اس کے ساتھ ہی انہیں وضع حمل کی تکلیف سے نجات مل گئی.. اس کے بعد وہ نور سمٹ کر ان کے قریب آیا اور انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے اس مجسم نور نے زمین سے ایک مٹھی مٹی اٹھا کر ان کی طرف بڑھائی جو حضرت آمنہ نے اپنے ہاتھ میں لے لی اور اس کے بعد اس نور نے اپنا رخ آسمان کی طرف کرلیا*
*حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی والدہ فرماتی ہیں کہ حضرت آمنہ کے وضع حمل کے وقت وہ وہاں موجود تھیں اور انہوں نے وہاں سواۓ نور کے کچھ اور نہ دیکھا اور باہر ستارے زمین کے اس قدر نزدیک آ گئے تھے کہ گویا زمین پر گرنے والے ہوں.. یہ سب ناقابل یقین تھا.*.
*حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کی والدہ آپﷺ کی ولادت کے وقت قابلہ (دائی) کی خدمات سرانجام دے رہی تھیں.. ان کا بیان ہے کہ جب آنحضرت ﷺ اپنی والدہ کے بطن سے ان کے ہاتھ میں آۓ تو نومولود کے جسم سے ایسا نور طلوع ہوا کہ جس سے سارا حجرہ اور اس کے در و دیوار چمک اٹھے.*
*اس ضمن میں ایک یہودی کا واقعہ عجیب و غریب ہے.. ہشام بن عروہ اپنے والد اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی مکہ میں رہ کر تجارت کرتا تھا.. جس روز آنحضرتﷺ کی ولادت مبارکہ ہوئی اس روز اس نے ایک مجلس میں قریش سے پوچھا.. "کیا تمہیں معلوم ہے کہ کل رات تمہاری قوم میں ایک عظیم الشان بچہ پیدا ہوا ہے..؟"*
*وہ بولے.. "نہیں تو.." دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت آمنہ بنت وہب کے بطن سے حضرت عبدالمطلب کے بیٹے حضرت عبداللہ کے ہاں ایک بچہ پیدا ھوا ھے.. اس یہودی نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ تم مجھے وھاں چل کر وہ بچہ دکھاؤ..*
*یہودی کی اس درخواست پر وہ لوگ اسے حضرت عبدالمطلب کے مکان تک لے گئے.. جب آپ ﷺ کو اس یہودی کے سامنے لایا گیا تو لوگوں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کا روۓ مبارک چاند سے زیادہ روشن ہے.. یہ نور نبوت تھا جس کے آثار اس نور کی صورت میں آپ ﷺ کے چہرے اور پیشانی سے ظاہر ہورہے تھے.. دوسری طرف جب یہودی نےآپ ﷺ کی پشت کھول کر دیکھی اور اس کی نظر جب شانوں کے درمیان ایک مسّہ (مہر نبوت _ جس میں گھوڑے کے ایال کی طرح چند بالوں کی ایک قطار تھی) پر پڑی تو بے ہوش ہوکر گرگیا.. جب اسے ہوش آیا تو قریش کے لوگوں نے اس سے پوچھا.. "ارے تجھے کیا ہوا ..؟"*
*وہ یہودی رو رو کر کہنے لگا.. "آج ہم بنی اسرائیل سے نبوت کا سلسلہ تمھاری قوم میں منتقل ہوگیا.."*
*پھر جب اس کی طبیعت سنبھلی تو اس نے قریش کو اس نعمت کی مبارک دی اور کہا کہ تمھاری سطوت کی یہ خبر اب مشرق تا مغرب پھیل جاۓ گی*
*سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی*
▪️ *بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں*▪️
*واٹس چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کلک کریں* ▪️
▪️ *بچوں کی اسلامی تربیت گروپ میں شمولیت کے لئے تربیت لکھ کر وٹس ایپ میسج کیجئے 03089248729* ▪️

