مستند روایات سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ کا لڑکپن اور زمانہ شباب دور جاہلیت کے تمام اکل و شرب , لہو و لعب اور دوسری تمام ناپسندیدہ اقدار سے پاک رہا.. باوجود اس کے کہ عرب معاشرہ سر تا پا بدکاری اور بےحیائی میں ڈوبا ہوا تھا اور ایسے تمام بد اعمال عرب* *معاشرہ میں نہایت ہی پسند کئے جاتے تھے ,* *اللہ نے آپ ﷺ کی ذات پاک کو ان سے محفوظ رکھا.. اس کھلی بدکاری کے ماحول میں آپ ﷺ کے ہم عمر نوجوان جب جوانی کی خرمستیوں میں ڈوبے ہوۓ تھے , آپ ﷺ ان کے عین الٹ* *طریق پر اپنی راست بازی اور پاکیزگی میں مکہ کے صالح ترین انسان کے طور پر سامنے آۓ*.. *دوسری طرف ایسا کبھی نہ ہوا کہ آپ ﷺ شرک و گمراہی کے کسی فعل میں شریک ہوۓ ہوں.. خانہ کعبہ کے طواف کے دوران جب مشرکین طرح طرح کے شیطانی اعمال و شرکیہ* رسومات میں مبتلا ہوتے , آپ ﷺ *ان سب سے الگ تھلگ اپنا طواف جاری رکھتے.. اس دوران نہ صرف خود ایسی بداعمالیوں اور شرک و بت پرستی سے دور رہتے بلکہ دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے روکتے.آپﷺ اپنی قوم قریش کے اس دین پر کبھی نہیں چلے جس کو آپ ﷺ کی قوم نے دین ابراھیمی ترک کرکے اپنا لیا تھا.. اللہ نے آپ ﷺ کو قبل بعثت ہر قسم کی بےحیائی و بدکاری سے پاک صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ ارتکاب شرک و گمراہی سے بھی محفوظ رکھا* *جنگ فجار" میں شرکت..* *آپ ﷺ کی عمر بیس سال تھی جب قبیلہ قریش اور قبیلہ "قیس عیلان" کے درمیان ایک بہت ہی زبردست جنگ ہوئی.. یہ جنگ "حرب الفجار" کے نام سے مشھور ہے.. "بنی کنانہ" بھی اس جنگ میں قریش کے اتحادی تھے.. یہ جنگ چونکہ ان مقدس مہینوں میں لڑی گئی جن میں قتل و غارت کرنا , فسق و فجور ناجائز اور حرام تھا اس لئے اس جنگ کو "حرب الفجار" کا نام دیا گیا..* *قبیلہ قریش کے تمام ذیلی قبائل نے اس معرکہ میں اپنی الگ الگ فوجیں قائم کی تھیں.. بنو ہاشم کے علمبردار آپ ﷺ کے چچا جناب زبیر بن عبدالمطلب تھے جبکہ ان تمام قریشی فوجوں کی مشترکہ کمان حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے والد اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دادا "حرب بن امیہ" کے ہاتھ میں تھی جو رئیس قریش اور نامور جنگجو تھے..* *ابن ہشام کے مطابق بازار عکاز میں ہونے والا ایک قتل اس جنگ کی وجہ بنا.. دونوں ہی فریقوں نے ایک دوسرے کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دیا.. بڑھتے بڑھتے یہ تنازعہ اتنا بڑھا کہ ان میں جنگ کی نوبت آگئی..* *چونکہ اس تنازعہ میں قریش خود کو برحق سمجھتے تھے اور پھر خاندان کے ننگ و نام کا معاملہ بھی تھا اس لئے* *آپ ﷺ بھی اپنے چچاؤں کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہوۓ لیکن آپ ﷺنے دوران جنگ* *کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا بلکہ صرف اپنے چچاؤں کو تیر اٹھا اٹھا کر دیتے رہے.. اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ جنگ ان مقدس مہینوں میں ہوئی جن میں جنگ کرنا حرام تھا.. دوسری طرف ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دونوں ہی فریق مشرک تھے اس لئے اللہ نے آپ ﷺ کو اس بےمقصد قتل و غارتگری سے محفوظ رکھا کیونکہ مومن کو قتال اور جہاد و جنگ و جدل کا حکم فقط اس لیے دیا گیا کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو اور اسی کا بول بالا ہو جبکہ یہ جنگ محض نسلی و قبائلی نام و نمود کے لئے لڑی گئی..* *جنگ شروع ہوئی تو اول اول قبیلہ قیس عیلان کا پلہ بھاری رہا لیکن دوپہر کے بعد بعد قریش بتدریج غالب ہوتے گئے اور بلآخر قریش ہی فتح یاب ہوۓ تاہم دونوں طرف کے بزرگوں کی کوشش سے دونوں قبائل میں صلح کی آواز اٹھی اور یہ تجویز آئی کہ فریقین کے مقتولین گن لئے جائیں , جدھر زیادہ ہوں ان کو زائد کی دیت دے دی جائے.. چنانچہ اسی پر صلح ہوگئی اور یوں قتل و غارتگری کا یہ سلسلہ تھم گیا..* *معاہدہ "حلف الفضول" میں شرکت.* *معمولی معمولی باتوں پر لڑائیوں کا سلسلہ عرب میں مدتوں سے جاری تھا جس نے سینکڑوں گھرانے برباد کردیئے تھے اور قتل و سفاکی موروثی اخلاق بن گئے تھے.. حرب الفجار کے بعد بعض صالح طبیعتوں میں اس بےمعنی جنگ و جدل سے بیزاری پیدا ہوئی اور یہ خیال پیدا ہوا کہ جس طرح زمانہ سابق میں قتل و غارتگری اور ظلم و ستم کے انسداد کے لیے " فضل بن فضالہ , فضل بن وداعہ اور فضل بن حارث" نے ایک معاہدہ مرتب کیا تھا جو انہی کے نام پر "حلف الفضول" کے نام سے مشہور ہوا اسی طرح اب دوبارہ اس کی تجدید کی جاۓ.. (چونکہ ان سب کے نام میں فضل کا لفظ شامل تھا اس لئے معاہدہ کو حلف الفضول کہتے ہیں) جنگ فجار سے جب لوگ واپس مکہ پہنچے تو آپ ﷺ کے چچا اور خاندان بنو ہاشم کے سردار جناب زبیر بن عبدالمطلب نے سب کے سامنے یہ تجویز پیش کی.. چنانچہ خاندان بنو ہاشم , بنو زہرہ اور بنو تیم "عبداللہ بن جدعان تیمی" کے گھر میں جمع ہوۓ.. وہ سن وشرف میں ممتاز تھا.. وہاں یہ معاہدہ طے پایا کہ ہم میں سے ہر شخص مظلوم کی حمایت کرے گا اور کوئی ظالم مکہ میں رہنے نہ پاۓ گا..* *نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ "اس معاہدہ کے وقت میں بھی عبداللہ بن جدعان کے گھر حاضر تھا.. اس معاہدہ کے مقابلہ میں اگر مجھ کو سرخ اونٹ بھی دیئے جاتے تو ہرگز پسند نہ کرتا اور اگر اب زمانہ اسلام میں بھی اس قسم کے معاہدہ کی طرف بلایا جاؤں تو بھی اس کی شرکت کو ضرور قبول کروں گا.* *اس معاہدے کا سبب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ زبید کا ایک آدمی سامان لے کر مکہ آیا اور "عاص بن وائل" نے اس سے سامان خریدا لیکن اس کا حق روک لیا.. اس نے حلیف قبائل عبد الدار , مخزوم , جمح , سہم اور عَدِی سے مدد کی درخواست کی لیکن کسی نے توجہ نہ دی.. اس کے بعد اس نے جَبَلِ ابو قُبَیس پر چڑھ کر بلند آواز سے چند اشعار پڑھے جن میں اپنی داستانِ مظلومیت بیان کی تھی.. اس پر جناب زبیر بن عبد المطلب نے دوڑ دھوپ کی اور کہا کہ یہ شخص بے یار ومدد گار کیوں ہے..؟ ان کی کوشش سے اوپر ذکر کئے ہوئے قبائل جمع ہوگئے.. پہلے معاہدہ طے کیا اور پھر عاص بن وائل سے زبیدی کا حق دلایا* *حلف الفضول" کا یہ واقعہ حرب الفجار کے 4 ماہ بعد اور آپ ﷺ کی بعثت سے 20 سال پہلے پیش آیا جسے قتل و غارتگری اور ظلم و ستم کی روک تھام میں ایک سنگ میل کا درجہ حاصل ہوا.. اس لیے اس معاہدہ کو زمانہ جاہلیت کے بہترین معاہدہ کی حیثیت سے یاد رکھا گیا ہے.
(باقی آئندہ ان شآءاللہ)
سیرت النبی. مولانا شبلی نعمانی
سیرت المصطفٰی .مولانا محمد ادریس کاندہلوی
بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں
واٹس ایپ چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کلک کریں
بچوں کی اسلامی تربیت گروپ میں شمولیت کے لئے تربیت لکھ کر وٹس ایپ میسج کیجئے 03089248729