المعرفت منزل
پچھلی قسط میں آپ ﷺ کی نوجوانی کے زمانہ کے دو مشہور واقعات کا تذکرہ کیا گیا.. اس قسط میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور شباب کے مذید حالات بیان کئے جائیںنگے*
*اللہ نے اپنے تمام انبیاء کو ساری زندگی شرک و گمراہی اور رسوم جاہلیت سے محفوظ رکھا.. چنانچہ تمام ہی انبیاء کرام اپنی نبوت و رسالت سے پہلے بھی اپنے خاندان و قبیلہ اور قوم کے صالح ترین انسان قرار پاۓ.. جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام یا حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعات سے ظاہر ہے.. اسی طرح نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی اپنی نبوت و رسالت سے پہلے اپنے لڑکپن اور دور جوانی میں شرک و بت پرستی اور تمام مراسم شرک سے بلکل پاک اور منزہ رہے.. آپ ﷺ کی نیکی , خوش اطواری , دیانت , امانت اور راست بازی کی اس قدر شہرت ہوگئی تھی کہ لوگ آپ ﷺ کو نام لے کر نہیں بلکہ "الصادق یا الامین" کہہ کر پکارتے تھے.. جیسا کہ ابن ہشام کی روایت میں ہے کہ*
*پس رسول اللہ ﷺ اس حال میں جوان ہوۓ کہ اللہ تعالی' آپ ﷺ کی حفاظت اور نگرانی فرماتے تھے اور جاہلیت کی تمام گندگیوں سے آپ ﷺ کو پاک اور محفوظ رکھتے تھے.. اس لِئے کہ اللہ تعالی' کا ارادہ یہ ہوچکا تھا کہ آپ ﷺ کو نبوت و رسالت اور ہر قسم کی عزت و اکرام سے سرفراز فرماۓ.. یہاں تک کہ آپ صلی ﷺ مرد کامل ہوگئے اور مروت و حسن خلق , حسب و نسب , حلم و بردباری و راست بازی اور صداقت و امانت میں سب سے بڑھ گئے اور فحش و اخلاق رزیلہ (بری عادات و خصلت) سے انتہا درجہ دور ہوگئے.. یہاں تک کہ آپ ﷺ "(الصادق) الامین" کے نام سے مشہور ہوگئے*
*حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں جب مشرکین مکہ بیت اللہ کا طواف کرتے تو "اساف و نائلہ" (دو بتوں کے نام) کو چھوتے تھے.. ایک بار میں نے آپ ﷺ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا.. جب ان بتوں کے پاس سے گزرا تو ان بتوں کو چھوا*
*آنحضرت ﷺ نے مجھ کو (ان بتوں کو چھونے سے) منع کیا..*
*میں نے اپنے دل میں کہا کہ دیکھوں تو سہی کہ چھونے سے ہوتا کیا ہے اس لئے دوبارہ ان کو چھوا.. آپﷺ نے پھر ذرا سختی سے منع کرتے ہوۓ فرمایا.. "کیا تم کو منع نہیں کیا تھا*
*حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں.. " اللہ کی قسم ! اس کے بعد کبھی کسی بت کو ہاتھ نہیں لگایا.. یہاں تک کہ اللہ*
*تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور آپ ﷺ پر اپنا کلام اتارا.."*
*(مستدرک حاکم.. جلد 3 صفحہ 216)*
*ایک مرتبہ (ایک دعوت میں) قریش نے آپ ﷺ کے سامنے کھانا لا کر رکھا.. آپ ﷺ نے اس کو کھانے سے انکار کیا.. وجہ یہ تھی کہ قریش جانوروں کو غیراللہ کے نام پر ذبح کرتے تھے اور آپ ﷺ کو بتوں کے چڑھاوے کھانے سے اپنی پاکیزہ طبیعت کی وجہ سے نفرت تھی*
*خلاصہ یہ کہ تمام انبیاء کرام کی طرح آپ ﷺ بھی ابتداء سے ہی نہایت صالح طبیعت والے اور کفر و شرک اور ہر قسم کے فحشاء و منکر سے پاک اور منزہ تھے*
*مسز اینی بیسنٹ" ہندوستان میں تھیو سوفیکل سوسائٹی کی پیشوا اور بڑی مشہور انگریز عورت ہے.. وہ لکھتی ہے..*
*پیغمبر اعظم ﷺ کی جس بات نے میرے دل میں اُن کی عظمت وبزرگی قائم کی ہے وہ اُن کی وہ صفت ہے جس نے اُن کے ہم وطنوں سے "الامین" (بڑا دیانت دار) کا خطاب دلوایا.. کوئی صفت اس سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی اور کوئی بات اس سے زیادہ مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لئے قابلِ اتباع نہیں.. ایک ذات جو مجسم صدق ہو , اُس کے اشرف ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے.. ایسا ہی شخص اس قابل ہے کہ پیغامِ حق کا حامل ہو.."*
============(باقی آئندہ ان شآءاللہ )
سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی.
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی
▪️ *بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں*▪️
*واٹس ایپ چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کلک کریں* ▪️
▪️ *بچوں کی اسلامی تربیت گروپ میں شمولیت کے لئے تربیت لکھ کر وٹس ایپ میسج کیجئے 03089248729* ▪️