المعرفت منزل
لڑکپن میں رسول ﷺ کا کوئی معین کام نہ تھا. البتہ یہ خبر متواتر ہے کہ آپﷺ بکریاں چراتے تھے.. آپ نے بنی سعد کی بکریاں چرائیں اور مکہ میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض چراتے تھے.. جب جوان ہوئے تو آپ ﷺ کو حصول ِمعاش کی فکر ہوئی.. مکہ وادیٔ غیر ذی زرع میں واقع تھا.. وہاں زراعت کرنے کا تو سوال ہی نہ تھا اس لئے آپ ﷺ نے اپنے آباو اجداد کی طرح تجارت کا ذریعہ اپنایا.. حضور ﷺ نے اپنے والد کے چھوڑے ہوئے سرمایہ کو تجارت میں لگایا اور ان میلوں میں شرکت کے لئے سفر بھی کئے.. پیشہ تجارت میں آپ نے ہمیشہ امانت داری اور دیانت کو پیش نظر رکھا.. آپ ﷺ کے ایک ساتھی عبداللہ بن ابی الحمسأ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے ایک تجارتی معاہدہ کیا لیکن بات پوری طے ہونے سے قبل مجھے ایک ضروری کام یاد آیا اور میں نے آپﷺ سے کہا کہ آپ یہیں ٹھہریں میں ابھی آتا ہوں..
وہاں جا کر کام میں ایسا مشغول ہو گیا کہ مجھے آپﷺ سے کیا ہوا عدہ یاد نہ رہا.. اتفاقاً تین روز بعد میرا ادھر سے گزر ہوا تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ وہیں انتظارکر رہے ہیں.. میں احساسِ شرمندگی کے ساتھ آپ ﷺکی طرف گیا تو آپﷺ نے صرف اتنا فرمایا کہ تم نے مجھے زحمت دی.. اس لئے کہ میں تین دن سے اسی جگہ پر تمہارا منتظر ہوں..
زمانہ جاہلیت میں قیس بن السائب مخزومی آپ ﷺ کے ساتھ شریک تجارت تھے.. وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے محمد ﷺ بن عبداللہ سے بہتر ساتھی نہیں پایا.. اگر ہم آپ کا سامان تجارت لے کر جاتے تو واپسی پر آپﷺ ہمارا استقبال کرتے اور خیر و عافیت پوچھ کر چلے جاتے.. برخلاف اس کے اگر آپ ﷺ تجارتی سفر سے لوٹتے تو جب تک پائی پائی بے باق نہ کرتے اپنے گھر کو نہ جاتے.. تجارت میں آپﷺ کی دیانت داری اور معاملہ فہمی کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا قریش کی دولت مند بیوہ خاتون تھیں جنہیں عرب کے کئی نامور رئیسوں نے نکاح کا پیام دیا تھا.. ان کے والد خویلد بن اسد نے بہترین تجارتی کاروبار ورثہ میں چھوڑا تھا اس لئے انہوں نے بھی تجارت جاری رکھی.. اپنا مالِ تجارت اُجرت یا شراکت پر تاجروں کے ہمراہ روانہ کرتیں. ابتدائی عمر میں چچا زاد بھائی اور مشہور عیسائی عالم "ورقہ بن نوفل" سے منسوب تھیں لیکن شادی نہ ہوسکی.. 15 سال کی عمر میں ان کا پہلا نکاح ہند بن نباش سے ہوا جو ابوہالہ کے نام سے مشہور تھے.. ان سے دو بچے پیدا ہوئے جو بعد میں حضور اکرم ﷺ پر ایمان لائے.. ابو ہالہ کے انتقال کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا 21 سال کی تھیں.. آپ کا دوسرا نکاح عتیق بن عاید مخزومی سے ہوا جن سے ایک لڑکی پیدا ہوئی جس نے بعد میں اسلام قبول کیا.. عتیق بن عاید مخزومی بھی انتقال کرگئے.. یکے بعد دیگرے دونوں شوہروں کے انتقال سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا دل برداشتہ ہو گئی تھیں.. مالی دولت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں دولتِ حُسن سے بھی نوازا تھا.. نہایت ذہین اور سلیقہ مند تھیں.. انہی خصائص کی وجہ سے وہ "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں..
جب انہیں رسول اللہ ﷺ کی راست گوئی , امانت اور مکارمِ اخلاق کا علم ہوا تو انہوں نے ایک پیغام کے ذریعے پیش کش کی کہ آپ ان کا مال لے کر تجارت کے لئے ملک شام تشریف لے جائیں.. وہ دوسرے تاجروں کو جو کچھ دیتی ہیں اس سے بہتر اجرت آپ کو دیں گی.. آپ ﷺ نے اپنے چچا سے مشورہ کرکے یہ پیش کش قبول کرلی اور ان کا مال لے کر ملک شام تشریف لے گئے.. اس سفر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ایک غلام میسرہ بھی آپ کے ساتھ تھے جو آپ ﷺ کے اخلاق و عادات دیکھ کر آپ ﷺ کے گرویدہ ہوگئے..
آپ ﷺ سفر سے مکہ واپس تشریف لائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مال میں ایسی امانت وبرکت دیکھی جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی.. مال کی خرید و فروخت کا حساب آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو دیا تو منافع دوگنا سے زیادہ تھا.. حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بھی طے شدہ معاوضہ کا دوچند آپ کو دیا یعنی بجائے چار اونٹ کے آٹھ اونٹ معاوضہ میں دیئے..
ادھر ان کے غلام مَیْسَرہ نے آپ ﷺ کے شیریں اخلاق , بلند پایہ کردار , موزوں اندازِ فکر , راست گوئی اور امانت دارانہ طور طریق کے متعلق اپنے مشاہدات بیان کئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اپنا گم گشتہ گوہرِ مطلوب دستیاب ہوگیا.. حضور ﷺ کی عمر اس وقت 25 سال ہوچکی تھی اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس سال تھی.. حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کی ستودہ صفات سے متاثر ہوکر خود ہی اپنی سہیلی نفیسہ بنت منیہّ کے ذریعہ آپ کی خدمت میں نکاح کا پیغام بھیجا.. حضور ﷺ نے اپنی رضا مندی ظاہر کی اور اپنے ہم عمر چچا اور دودھ شریک بھائی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا جنہوں نے اہلِ خاندان سے مشورہ کرکے خود ہی جا کر پیام منظور کرلیا.. چنانچہ آپ ﷺ کا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا جس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی جانب سے ان کے چچا عمرو بن اسد اور حضور ﷺ کی جانب سے حضرت ابو طالب , حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ , حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سردارانِ قریش شریک تھے.. مہر بہ اختلاف روایات 20 اونٹ , 400 دینار یا 500 درہم قرار پایا..
*یہاں اس بات کی صراحت ضروری ہے کہ عام روایت کی بموجب نکاح کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیں سال بتائی جاتی ہے لیکن بین الاقوامی شہرت کے حامل اسکالر اور سیرت نگار ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے اپنی کتاب "رسول اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی" میں محمد بن حبیب بغدادی مصنف کتاب "المحبّر" کے حوالہ سے 28 سال بتائی ہے..
*اٹھائیس سال کی مزید تائید الزرقانی کے بیان سے بھی ہوتی ہے.. وہ القسطلانی کی کتاب المواہب کی مشہور شرح المغلطائی کے حوالہ سے لکھتے ہیں "اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ 28 سال کی تھیں جیسا کہ المغلطائی اور دوسروں نے بیان کیا ہے.." (الزرقانی , جلد 1)
سب سے زیادہ وقیع بات تو یہ ہے کہ ابن سعد (متوفی ۲۳۰ہجری) نے عبداللہ بن عباس کی سند سے روایت لکھی ہے کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر جس دن رسول اکرم ﷺ نے ان سے نکاح کیا , 28 سال تھی.. (طبقات , جلد ۸ , فی النساء)
نکاح کے بعد حضور ﷺ چند دن بنی ہاشم کے محلہ میں گزار کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں آگئے.. حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت کے لئے ایک غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو پیش کیا جو اس وقت پندرہ سال کے تھے اور جنہیں بچپن میں ڈاکوؤں نے عُکّاظ کے بازار میں حکیم بن حزام کے ہاتھ فروخت کردیا تھا اور بعد میں انہوں نے اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی نذر کیا تھا.. کچھ عرصہ بعد زید رضی اللہ عنہ کے باپ کو معلوم ہوا کہ زید زندہ ہیں تو باپ اور چچا دونوں نے حضور ﷺ کی خدمت حاضر ہو کر انہیں ان کے حوالے کرنے کی درخواست کی جس پر حضور ﷺ نے زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تمہارے باپ اور چچا تمہیں لینے آئے ہیں اب تمہیں اختیار ہے کہ چاہو تو ان کے ساتھ اپنے وطن لوٹ جاؤ , چاہو تو میرے ساتھ رہو.. اس پر زید رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ اور چچا کے ساتھ جانے کے مقابلہ میں حضور ﷺ کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی..*
*اس کے بعد حسب دستور حضور ﷺ زید رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر حرم کعبہ میں آئے اور حطیم کے پاس جا کر اعلان فرمایا.. "لوگو ! گواہ رہنا کہ زید آزاد ہے اور آج سے وہ میرا بیٹا ہے.." یہ اعلان سُن کر اُن کے باپ اور چچا بہت خوش ہوئے اور اپنے وطن واپس لوٹ گئے.. حضرت زید رضی اللہ عنہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن مجید میں آیا ہے.
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پہلی خاتون تھیں جن سے رسول اللہ ﷺ نے شادی کی اور ان کی وفات تک کسی دوسری خاتون سے شادی نہیں کی.. حضرت
ابراہیم رضی اللہ عنہ کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کی بقیہ تمام اوّلاد انہی کے بطن سے تھیں..
*سب سے پہلے قاسم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے اور انہی کے نام پر آپ کی کنیت ابوالقاسم پڑی.. پھر حضرت زینب رضی اللہ عنہا, رقیہ رضی اللہ عنہا , اُم کلثوم رضی اللہ عنہا , فاطمہ رضی اللہ عنہا اور عبداللہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے.. عبداللہ رضی اللہ عنہ کا لقب طیب اور طاہر تھا.. آپ ﷺ کے سب بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے البتہ بچیوں میں سے ہر ایک نے اسلام کا زمانہ پایا , مسلمان ہوئیں اور ہجرت کے شرف سے مشرف
ہوئیں لیکن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سوا باقی سب کا انتقال آپ کی زندگی ہی میں ہوگیا.. حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے چھ ماہ بعد ہوئی
=(باقی آئندہ ان شآءاللہ)
.سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی.
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
▪️ *بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اس پیغام کو کاپی پیسٹ کی بجائے فارورڈ کریں تاکہ خیر کے کام میں میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوسکیں*▪️
*واٹس ایپ چینل کھولنے کے بعد Follow کو ضرور کلک کلک کریں* ▪️
▪️ *بچوں کی اسلامی تربیت گروپ میں شمولیت کے لئے تربیت لکھ کر وٹس ایپ میسج کیجئے 03089248729* ▪️